
دمشق (جیوڈیسک) شام نہ صرف مختلف مسلم ممالک بلکہ یورپ سے آنے والے دہشتگردوں کی بھی جنت بن گیا ہے۔ انکشاف ہوا ہے کہ صدر بشارالاسد کے خلاف بغاوت میں شامل یورپی انتہا پسند مسلمانوں کی تعداد 12 ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔
شام کے صدر بشارالاسد کے خلاف خانہ جنگی ڈھائی برس سے جاری ہے جس میں چھوٹے یورپی ملکوں کے انتہاپسند مسلمانوں کی بڑی تعداد بھی شریک ہے۔ اسرائیلی اخبار کے مطابق اس تعداد میں اضافے کا سبب مغربی ممالک میں سلافسٹ تحریک کا زور پکڑنا ہے۔
شام میں شمالی افریقا سے تعلق رکھنے والے انتہا پسندوں کی بڑی تعداد موجود ہے جبکہ برطانیہ سے جاکر شام میں لڑنے والے زیادہ ترافراد کا تعلق جنوب مشرقی ایشیا سے ہے جو عربی نہیں جانتے۔
اس طرح فرانس اور جرمنی سے بھی قریبا 700 کے قریب انتہا پسند شام گئے ہیں۔ ڈنمارک سے 65 آسٹریا سے 57 نارویسے 40 اور بیلجیئم سے 300 کے قریب دہشتگرد شام میں لڑ رہے ہیں۔
اس طرح یورپ سے شام جا کر لڑنے والے دہشتگردوں کی تعداد 12 ہزار ہوچکی ہے جو جدید تاریخ میں اپنی نوعیت کا ریکارڈ ہے۔ ڈیٹا تیار کرنے والے ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ دہشت گرد شام سے واپس آکر یورپی ملکوں میں بھی دہشتگردی کی بڑی کارروائیوں کا سبب بن سکتے ہیں اور اس طرح یورپ کو ایک نیا بحران درپیش ھو سکتا ھے
