آسمان زیر زمیں
تحریر : میر افسر امان آسمان کو زیر زمیں کرنے والے منفرد شاعر محمد نعیم ملک صاحب جن کاادبی نام نسیم ِ سحر ہے واقعی…
تحریر : میر افسر امان آسمان کو زیر زمیں کرنے والے منفرد شاعر محمد نعیم ملک صاحب جن کاادبی نام نسیم ِ سحر ہے واقعی…
آپ ہوتے ہیں جہاں عشق وہاں ہوتا ہے آپ کے چہرے پہ وہ نور عیاں ہوتا ہے چاند اترا ہو زمیں پر یہ گماں ہوتا…
اے میرے ہمنشیں دل کئی آواز کو درد کے ساز کو سن لیا تم نے کیا میرے نالوں کو بھی دل کے چھالوں کو بھی…
شعور و فکر و نظر کے زوال کے موسم اتر رہے ہیں زمیں پر ملال کے موسم فقیہِ شہر تیرے عہدِ کم نگاہی میں! سلگ…
تیرگی کا حصار ٹوٹا ہے اِک ستارا زمیں پہ اترا ہے شب گزیدوں کی گود میں ساحل ہم نے صبحوں کا نور دیکھا ہے ساحل…
ہے سرخ موسم گھٹا نہیں ہے گھٹن بہت ہے ہوا نہیں ہے گھری ہیں راتیں دیا نہیں ہے یہ آسمان بھی نیا نہیں ہے نہ…
خواب تیرے خیال تیرے ہیں میرے سب خدو خال تیرے ہیں جِن سے قائم ہے درد کا رِشتہ وہ سبھی ماہ و سال تیرے ہیں…
واشنگٹن (جیوڈیسک) کینٹکی کے علاقے مے فیلڈ میں طوفانی ہواؤں سے متعدد عمارتیں تباہ ہو گئیں۔ ہوائیں تباہ شدہ گھروں کا سامان اڑا کر لے…
تحریر: پروفیسر رفعت مظہر ہمارے کچھ سیاستدان اور لکھاری ہرکام میں کیڑے نکالنے کے موذی مرض میں مبتلاء ہیں ۔یہ لوگ مخالفت برائے مخالفت کے…
نہ حاکمی کے لئے اور نہ ہی شاں کے لئے جہاں میں آیا ہے تو صرف امتحاں کے لئے کسک ہے سوز ہے آہ و…
اٹھا کے نظر باخدا دیکھتا ہوں زمیں پر خدا کی عطا دیکھتا ہوں کسی گل کی جب میں ادا دیکھتا ہوں اُسے روبروۓ خدا دیکھتا…
واللہ ! چاہے ہو حسیں غیر اللہ پر لائقِ سجدہ نہیں غیر اللہ ایسا جہاں میں ہے کہیں غیر اللہ جو لکھ سکے لوحِ مبیں…
عقل نے ایک دن یہ دل سے کہا بھولے بھٹکے کی رہنما ہوں میں ہوں زمیں پر ، گزر فلک پہ مرا دیکھ تو کس…
نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے جہاں ہے تیرے لیے ، تو نہیں جہاں کے لیے یہ عقل و دل ہیں…
ہمارے دل کی قائل ہو گئی تھی اداسی کتنی مائل ہو گئی تھی لگا جیسے سمندر آ پڑے ہیں ذرا سی بات حائل ہو گئی…
جہاں تلک یہ صحرا دکھائی دیتا ہے مری طرح سے اکیلا دکھائی دیتا ہے نہ اتنی تیز چلے، سرپھری ہوا سے کہو شجر پہ ایک…
کنارے آب کھڑا خود سے کہہ رہا ہے کوئی گماں گزرتا ہے، یہ شخص دوسرا ہے کوئی ہوا نے توڑ کے پتا زمیں پہ پھینکا…
جب تک زمیں پہ رینگتے سائے رہیں گے ہم سورج کا بوجھ سر پر اٹھائے رہیں گے ہم کھل کر برس ہی جائیں کہ ٹھنڈی…
اداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیں ہے آنکھ ویراں کہ سب نظارے اجڑ چکے ہیں مری زمیں پہ گلوں کے چہرے جھلس گئے…
جناب والا کہ یہ سات منزلہ صندوق؟ کسی مکان کے لیے ھے کہ لا مکان کے لیے؟ جناب اس کا اگر ایک پٹ اکھیڑ سکیں…
زمیں مدار سے اپنے اگر نکل جائے نجانے کونسا منظر کدھر نکل جائے اب آفتاب سوا نیزے پر اترنا ہے گرفت شب سے ذرا یہ…
یہ زمیں ہم کو ملی بہتے ہوئے پانی کے ساتھ اک سمندر پار کرنا ہے اسی کشتی کے ساتھ عمر یونہی تو نہیں کٹتی بگولوں…
جہاں بھی رہنا یہی اک خیال رکھنا زمیں فردا پہ سنگِ بنیاد حل رکھنا حضور اہلِ کمال فن سجدہ زیر رہنا گناہ میں طرہ کلاہ…
وہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئی مہک میں چمپا کلی، روپ میں چنبیلی ہوئی وہ سرد رات کی برکھا سے کیوں…
Start typing to search...
