Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

عبدل بھائی کی ہوٹل بازیاں

February 23, 2015 0 1 min read
Poetry
Poetry
Poetry

تحریر : طیب فرقانی
”اردو کی کلاسیکی شاعری میں آسمان کو ظالم وجابر اور بے داد کہا گیا ہے لیکن شاید ہی کسی نے سورج سے آنکھیں ملاکر اس کو ظالم کہا ہو ۔ سورج کا ڈوبنا ابھرنا امید و ناامیدی کی علامت ہونی چاہئے ۔سلسلۂ روزو شب اس کی کروٹوں سے دراز ہوتا جاتا ہے ۔یہ وقت کی زنجیر اپنی کمر سے باندھے بھاگا چلا جاتا ہے اور کوئی اس مجرم کو ٹھہرنے کا حکم دیتے ہوئے انگریز جنرل کے لہجے میں یہ نہیں کہہ سکتا ” اسٹاپ ” نہ کوئی اسے لکھنوی ادا سے کہہ سکتا ہے کہ جناب والا اپنی حرکتوں سے باز آجائیں ورنہ ایک دن آپ کائنات کا ہی بیڑا غرق کر دیں گے ۔ کوئی بھوجپوریا بھی استدعا نہیں کر سکتا کہ ” بھیا کہاں بھاگے جات ہو تنی ٹھہرا ،ہمراکے نیند پورا کرلے وے دا ” نہ کوئی رائٹر اس پر فل اسٹاپ لگا سکتا ہے ۔نہ ہی وہ کسی کا محبوب ہے کہ کہا جاسکے
اداس ، شام تنہائی ،کسک ،یادوں کی بے چینی
مجھے سب سونپ کر سورج اتر جاتا ہے پانی میں
یا یہ کہ
ڈھلی جو شام تو مجھ میں سمٹ گیا جیسے
قرار پانے سمندر میں آفتاب اترے

یہ تو بس وقت کی زنجیر میں کڑیا ںجوڑتا جاتا ہے ۔ ان کڑیوں کو پکڑ کے لٹک جائیں اور ذرا ماضی کے جھروکوں سے تاکیں تو عجیب و غریب دنیا کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں ۔ اور مٹے نامیوںکے نشان کیسے کیسے ، ذہن کی سطح پر ہتھوڑے برساتا ہے ۔” عبدل بھائی اپنے ساڑھے پانچ ستارہ ہوٹل میں ٩٠ کے زاویے پر بیٹھے یہی سب سوچ رہے تھے کہ آج جن عالی شان ہوٹل میں وہ بیٹھے ہیں ، قدیم زمانے کے مسافروں کو یہ کہاں نصیب تھا ۔بادشاہوں نوابوں کے زمانے میں مسافروں کے ٹھہرنے کے لئے سڑکوںکے کنارے سرائے بنادیے جاتے تھے ۔پھر مذہبی اور سماجی اداروں نے دھرم شالائیں اور مسافر خانے بنوادئیے ۔لیکن جیسے جیسے انسانوں کا جنگل گھنا ہوتا گیا اور سورج نے وقت کی زنجیر میں صدیوں کی کڑیا ںجوڑ دیں تو آج اسے ہوٹل اور موٹیل میسر آگئے ۔جن نے سوئزر لینڈ بینک کی تجوریا ں بھرنے کے لئے گویا روپوں کی مشین لگادی ۔ ایسے میں عبدل بھائی نے بھی بہتی گنگامیں ڈبکی لگانے کی بھرپور کوشش کی ۔اور ساڑھے پانچ ستارہ ہوٹل ” پوری طرح ” کھول لیا ۔ ان کے ساڑھے پانچ ستارہ ہوٹل کی کہانی کچھ اس طرح ہے کہ جب وہ وزیر خوراک و رسد تھے تو خوراک کو بہتر طور سے ہضم کرنے اور میلے کچیلے سیاہ دھن کو دھو دھا کر اجلا سفید بنانے کے لئے اپنی بیگم ( جو ان کی سیاہ و سپید کی مالکن تھیں ) کے نام سے ایک عالی شان ہوٹل بنوادئے۔ ان کے ہوٹل کے ساڑھے پانچ ستارہ ہونے پر کسی نے تعجب سے پوچھا تھا کہ پانچ ستارہ تو ہوتا ہے یہ ساڑھے کا لاحقہ کیوں ؟ تو انھوں نے میڈیا کی بدعنوانی پر برستے ہوئے بتایا تھا کہ” اس مقابلہ جاتی عہد میں میں نے اپنے ہوٹل کو چمکانے کے لیے میڈیا کو کچھ روپے دیے تھے اور کہا تھا کہ میرے ہوٹل کو چھ ستارہ ہونے کا پروپیگنڈہ کرے ۔مگر بر ا ہو اس کم بخت نمائندے کا جس نے آفس تک پورا پیسہ نہیں پہنچایا اور تھوڑی سی بالائی اپنی جیب کی تھیلی میں ڈال لی ۔ (چور چور موسیرے بھائی ) آفس والوں نے پیسہ کم دیکھ کر آدھا ستارہ گھٹا دیا ۔وہ تو شکر ہوا کہ انھوں نے آدھا ستارہ ہی گھٹا یا ورنہ میڈیا والے تو اچھے اچھوں کا سورج تک ڈوبا دیتے ہیں ۔” اور پھر وہ کچھ سوچنے لگے ۔اچانک سر اٹھا یا اور ایک شعر ٹھوک ڈالا۔
میڈیا کی آزادی گل نئے کھلاتی ہے
اس پہ مت بھروسا کر آج کے زمانے میں

دنیا جانتی ہے کہ ہمار ے عبدل بھائی کو اردو سے بڑی محبت ہے ۔وہ تو پارلیمنٹ میں بھی برملا فیض ،غالب اور فراق کے اشعار پڑھ کر ان کی روح کو ثواب پہنچاتے ہیں ۔ انھوں نے اردو کی تندوری ،رومالی اور چپاتی نما بڑی ،چھوٹی ،کچی پکی اور سینکی ہوئی تمام طرح کی روٹیاں کھائی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جب انھوں نے اپنے ساڑھے پانچ ستارہ ہوٹل کے لیے ڈگری یا فتہ خانساماں کا اشتہار دیا تو صراحت کردی کہ امیدوار چاہے ہر چیز سے نابلد وہوہ مگر اردو سے سے بلد ہونا چاہئے ۔نہ معلوم ” بلد ” کا یہاں کیا مطلب تھا ۔ وہ چوں کہ ماہر لسانیا ت بھی تھے اور ظفر اقبال کی غزلوں سے انھیں خاص شغف تھا ، اس لیے ہوسکتا ہے ان کے نزدیک ” بلد ” کا مطلب جان کا ر ہو ۔یہ بھی بعید ازقیاس نہیں کہ انھوں نے قافیہ باز شاعروںکو چڑانے کے لئے ایسے کیا ہو ۔ بہر حال انھوں نے صراحت کردی کہ انٹر ویو اردو میں ہی دیا جاسکے گا۔ امیدوار مقررہ تاریخ پر انٹر ویو کے لیے حاضر ہوئے ۔ انٹر ویو لینے والے پینل میں پہلے اور آخری فرد عبدل بھائی ہی تھے۔ انٹر ویو شروع ہوا ۔ایک امیدوار چیمبر کا دروازہ ادھ کھلا کر کے بولا ”May I come in sir””No”آپ بالکل نہیں آسکتے۔آپ نے اشتہا رمیں نہیں دیکھا تھا کہ انٹر ویو صرف اور صرف اردو میں ہی ہونا ہے ۔ گیٹ آئوٹ ! ۔وہ بے چارہ ڈرا سہما منہ ہی منہ کچھ بدبدتا ہو الٹے پائوں واپس ہوا۔ پتا نہیں عبدل بھائی کی شان میں گستاخی کررہا تھا یا اپنی قسمت کو کوس رہا تھا ۔عبدل بھائی نے اس امیدوار کو پھر بلا بھیجا اور اسے نصیحت کی کہ دیکھو ہر چیز میں غیروں کی تقلید اچھی نہیں ہوتی ۔ہمارا حال یہ ہے کہ ہم غیروں کی تقلید میں اس قدر صم بکم ہوگئے ہیں کہ چے خف ،جو نرا سیانا تھا ، کی اس بات کو بھی سچ مان لیتے ہیں کہ ” تنقید نگار اس مکھی کی طرح ہے جو کھوڑے کو ہل چلانے سے روکتی ہے ۔ارے ہل تو بیل چلاتے ہیں ۔یہ گھوڑے کہاں سے آگئے ۔” تھوڑا اور پر جوش ہو کر بولے ” حد تو یہ کہ میں نے جب ایک ادبی محفل میں اس تشویش کا اظہار کیا تو لوگ میری ہی اصلاح کرنے لگے کہ روس میں گھوڑے ہی ہل چلاتے ہیں ۔اور میں نے اپنا منہ پیٹ لیا۔ ” پھر انھوںنے پروفیسرانہ انداز میں نکتہ بیانی کی ” میں ایسے موقعوں پر سر نہیں پیٹتا ۔ کیوں کہ شاید تمہیں معلوم ہو کہ حضرت ابراہیم کے پاس بڑھاپے میں اولاد کی خوش خبری سنانے جب فرشتہ آیا تو ان کی بیوی نے سر نہیں پیٹا تھا ۔جانتے ہوکیا پیٹا تھا ؟” امیدوار ، جو بڑی دیر سے ہونقوں کی طرح بیٹھا تھا ، چونکا اور نفی میں منڈی ہلادی ۔ ” انھوں نے اپنا منہ پیٹا تھا ۔اس لیے میں اپنا منہ پیٹتا ہوں ۔” اس وقت عبد ل بھائی کے چہرے پر عجیب طرح کی مسکراہٹ تھی اور چہرے کا تاثر ایسا ہی تھا جیسے وہ ہندوستان کے وزیر اعظم ہوں اور امریکہ کے صدر کو چائے پلارہے ہوں ۔ اور اسی دوران معاہدوں اور منصوبوں پر تبادلۂ خیالات کر رہے ہوں ۔ ‘ ‘ اور پھر یہ کہ ضرب الامثال اور محاوروں کو زمانے کے ساتھ بدلتے رہنا چاہئے ۔مثال کے طور پر آج پاجامے کا دور ختم ہورہا ہے اس کی جگہ” لووَر ”نے لے لی ہے اس لیے ‘ آدمی ہو یا پاجامہ ‘ کو میں بولتا ہوں ‘ آدمی ہو یا لووَر’ اور کچھ بعید نہیں کہ آئندہ زمانے میں ‘آدمی ہو یا لووَ ر ‘ کی جگہ ‘آدمی ہو چی پَر ‘ استعمال کروں ۔خیر آپ تو تشریف لے جائیں اور دوسر ے امیدوار کو موقع دیں ۔ دوسرے امیدواروں نے جب یہ ماجرا سنا تو انگریزی کا ایک لفظ بھی استعمال نہ کرنے اور بہتر اردو بولنے کی تیاری شروع کر دی ۔ چنانچہ اگلے امیدوار نے دروازہ کھول کر بڑے ہی شائستہ انداز میں پوچھا ” کیامیں آپ کی دیدان کبیران و مبارکان کے پیش نششتہ کرسی پر اپنی مقعد حقیرہ و رزیلہ رکھنے کی جسارت و گستاخی کر سکتا ہوں ؟” عبدل بھائی کا سر چکراگیا ۔ تھوڑی دیر تو وہ کھجانے کے بہانے اپنا سر سہلاتے رہے پھر مری مری آواز میں بولے ۔” آپ اندر آسکتے ہیں ”۔

Poetry
Poetry

اب باضابطہ انٹر ویو شروع ہوا ۔عبدل بھائی نے سوالات پہلے سے ترتیب دے رکھے تھے ۔اور ہرایک سے وہی سوالات پوچھے گئے ۔اس سلسلے کا ایک سوال حالی کے درج ذیل شعر کی تشریح پر مشتمل تھا ۔ کوئی دن میں وہ دور آئے گا بے ہنر بھیک تک نہ پائے گا جواب میں کوئی تو ہکا بکا رہ جاتا ۔کوئی معذرت کرلیتا کہ تشریح اس کے بس کی بات نہیں اس کے اساتذہ نے صرف حالی کے مقدمے کے بارے میں ہی پڑھا یا ہے ۔ان کے اشعار پر کبھی روشنی نہیں ڈالی ۔ ایک نے تو جھنجلا کریہ تک کہہ دیا کہ ” ہم جیسے لوگ اگر شعر و شاعری کے چکر میں پڑ گئے تو متشاعر حضرات کیا پروڈکٹ بیچیں گے ؟(عبدل بھائی نے دل ہی دل میں کہا تھا کہ اور وہ کرتے بھی کیا ہیں ) لیکن ایک امیدوار جس نے پرسنالٹی ڈیولپمنٹ کا کورس کر رکھا تھا ،بڑے اعتماد سے شعر کی تشریح کچھ اس طرح سے کی :” جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں حالی کی شاعری مقصدی اور افادی شاعری تھی ۔اس شعر میں حالی نے قوم کی اصلاح کرتے ہوئے ہنر کی اہمیت بتائی ہے اور کہا ہے کہ اگر بھیک مانگنے سے بچنا چاہتے ہو تو کھانا پکانے کا خوب اچھا ہنر سیکھو اور پانچ ستارہ ہوٹل میں صدر خانسا ماں بنو ۔ہوٹلوں میں جو بخشش ملے اسے بھیک مت سمجھو کیوں کہ ایک دن آئے گا جب جمہوریت آئے گی اور حکومتیں بڑی کمپنیوں سے بڑا چندہ لینے کے لئے ملک میں مہنگائی کو بے قابو کردیں گی ، تب آدھے پیٹ آٹا اور ایک داڑھ شکر بھی مشکل سے ملے گی ۔اس کی زد میں امیر غریب سب آئیں گے اور کوئی بھیک تک دینے والا نہ ہوگا ۔ایسے برے وقت میں بخشش میں ملے پیسے اور دفتروں میں میز کے زیریں سے ملی بالائی ہی کام آئے گی ۔” اس سلسلے کا ایک دوسرا سوال یہ تھا کہ تخلیق کا ر کی موت تو ہوگئی ،نقاد کی موت کب ہوگی ؟ رجائیت پسند امیدوار تو موت کانام سن کر ہی گھبرا جاتے تھے ،جواب کیا دیتے ۔لیکن اسی امیدوار نے جوشاید پہلے سے ہی غصے میں بھر اہو تھا بڑا بھیانک جواب دیا تھا ۔ اس نے کہا کہ جب ہم جیسے خانساماں کو سیمیناروں میں جدید انداز کے کھانے پکانے کے لئے بلایا جائے گا اور ہم بر گر اور پیتزاجیسے خوش نما کھاناکھلا کر ان کی توندیں اتنی بھر دیں گے کہ وہ پھٹ جائیں ۔اس پر عبدل بھائی نے ناصحانہ انداز میں کہا تھا کہ نہیں نہیں ایسی زبان آپ جیسے شائستہ اور ذہین شخص کے لیے زیبا نہیں ۔

پیشۂ خانسامانی سے متعلق بھی ایک سوال کچھ یوں تھا کہ خانساماں کسے کہتے ہیں ۔زیادہ تر امیدواروں نے تکنیکی اور رٹی ہوئی تعریف کی تھی ۔لیکن مذکورہ ذہین امیدوار انٹر ویو کے دائو پیچ سے واقف تھا ۔ اسے پتا تھا کہ ہر جواب ذرا تفصیلی اور دل چسپ ہونا چاہئے تاکہ سامنے والے پر آپ کی شخصیت پوری طری واضح ہوجائے ،سو اس نے قدرے تفصیلی جواب دیا ۔ ” خانساماں ایک آئوٹ دیٹیڈ قدیم لفظ ہے ، آج اسی کو شیف کہا جاتا ہے ۔کچھ عرصے پہلے تک باورچی کہا جاتا تھا ۔ اس کی اپنی تہذیبی تاریخ ہے ۔اس سلسلے میں متعصب تاریخ نگاروں کا بڑا رول رہا ہے جنھوں نے ان خانساماں کو نظر انداز کیا ۔ خانساماں قیمہ ڈال کرطاہری پکایا کرتا تھا ، باورچی قورمے اور بریانی پکایا کرتا تھا ۔اور شیف بر گر ،پیتز ااور گرم کتا یعنی ہاٹ ڈوگ پکاتا ہے ۔خانسامان اور معجونی حکیم میں ایک خاص قسم کا تعلق ہے ۔دونوں پکائو ہوتے ہیں ۔پہلے حکیم دوائیں پکاتے تھے اب اشتہاروں سے پکاتے ہیں ۔دیواروں اور اخباروں میں ایسے ایسے اشتہار دیتے ہیں کہ کان کے ساتھ آنکھیں بھی پک جاتی ہیں ۔اخباروں کے اشتہاروں سے آپ آنکھیں سینک بھی سکتے ہیں ۔پہلے حکیم ایسا جوشاندہ دیتے تھے کہ دماغ سے نزلہ پک کر بہہ جاتا تھا اب ایسے اشتہار دیتے ہیں کہ نزلہ ریڑھ کی ہڈی سے پک کر ٹپک پڑے ۔” اس سلسلے کا آخری سوال فلسفیانہ تھا اور اس لیے بڑا دل چسپ تھا کہ اس کا جواب تقریبا ً ہر امیدوار نے اپنے اپنے نظریے ،صلاحیت اور سمجھ کے مطابق دیا تھا ۔ لیکن لاجواب کرنے والا جواب اسی مذکورہ امیدوار کا تھا ۔ سوال تھا ” زندگی کیا ہے ؟”چند جوابات اس طرح تھے : زندگی جھنڈو بام ہے ،زندگی زندہ دلی کا نام ہے ،زندگی فالودہ ہے ،کباڑہ ہے ، زندگی دولت کی ہوس اور پیاس ہے ،زندگی خوب صورت احساس ہے ، زندگی بھگوان کی کرپاہے خدا کی ہزار نعمت ہے ، زندگی دیوانے کا خواب ہے ،زندگی محبت ہے ،زندگی گرل فرینڈ ہے ، زندگی عورت ہے ، زندگی کھانے پینے سونے جاگنے کا نام ہے ،دنیا دھوکا ہے اور زندگی تماشا ۔ یہ سب سوشل میڈیا والے جوابات تھے ۔ انھیں پسند و ناپسند کرنے کا معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کسی پوسٹ کو لائک و شیئر کرنے نہ کرنے کا معاملہ ۔ لیکن آخری جواب ان سب کو جامع تھا جسے آپ ضرور شیئر کرنا چاہیں گے ۔ وہ کچھ اس طرح تھا :

” زندگی کے تین روپ ہیں ۔تن ،من اور دھن ۔ غریب کے پاس صرف تن ہی تن ہوتا ہے ۔نہ من نہ دھن ۔ اس کی زندگی جھنڈو بام ہوتی ہے لوگ اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور اپنے مرض کا علاج کرتے ہیں ۔ اورپھر بام کی خالی ڈبیہ کی طرح پھینک دیتے ہیں ۔ متوسط طبقے کے پاس تن کے ساتھ من بھی ہوتا ہے ۔ اس کی زندگی کبھی خوشی کبھی غم اور دھوپ چھائوں کی طرح ہوتی ہے یعنی گھن چکر ہوتی ہے ۔ وہ صرف تن پر ٹک نہیں سکتا کیوں کہ من کا ‘ایک من ‘ بوجھ لے کر ڈھوتا رہتا ہے ۔ہوتا ہے تو خوب شکم سیر ہوکر کھاتا ہے اور نہیں ہوتا ہے تو من مسوس کر رہ جاتا ہے ۔ اعلا طبقے کے پاس یہ تینوں چیزیں وافر مقدار میں ہوتی ہیں ۔تن کو چربی بے قابوبناتی ہے ، من کبھی مانتا نہیں اور دھن کا پتا نہیں کہ اس کے پاس کتنا ہے ۔مذہبی لوگ نرک اور جہنم سے سب سے زیادہ اسی طبقے کو ڈراتے ہیں اور ان کے چندے کے بغیر بھلا بھی نہیں ہوتا ۔تو نتیجہ یہ نکلاکہ زندگی الجھی ہوئی ہے ،اوبڑ کھابڑ تاریک زمینی سیارے کی طرح ۔اس میں امید کا سورج ہر روز نکلتا ہے اور ہر روز چھپ جاتا ہے۔ جب تک خدا اس سورج پہ فل اسٹا پ نہیں لگا دیتا یہ کسی کو تیز روشنی روشنی دے گا ،کسی کو ہلکی اور کسی کو بالکل نہیں ۔ اور ندا فاضلی کہتے پھریں گے
کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
کہیں زمیں تو کہیں آسماں نہیں ملتا

Taiyab Ali
Taiyab Ali

تحریر : طیب فرقانی
بپریت چوک ،اتردیناج پور ،مغربی بنگال

Share this:
Tags:
English eyes Poetry sleep universe Urdu آنکھیں اردو انگریز زنجیر شاعری ظالم کائنات نیند
Sibi
Previous Post بجلی کی غیر اعلانیہ طویل ترین لوڈشیڈنگ نے زمینداروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے
Next Post اظہار تشکر الحمد للہ
Allah

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close