غزل
ہر اشک دہائی دے ساحل اِک بار دکھائی دے ساحل اِس شہرِ سِتم کی گلیوں میں اب اِذنِ گدائی دے ساحل ہم جِس کی طلب…
ہر اشک دہائی دے ساحل اِک بار دکھائی دے ساحل اِس شہرِ سِتم کی گلیوں میں اب اِذنِ گدائی دے ساحل ہم جِس کی طلب…
نظر کے کینوس پر خونچکاں پیکر بناتا ہوں میں اپنی وحشتوں کے روز و شب منظر بناتا ہوں تخیل جب مجھے لے جائے ہے رنگوں…
جبر و وحشت کے نگر میں چپ رہو اس غمِ قلب و نظر میں چپ رہو کون دیتا ہے وفائوں کا صلہ عہد بے برگ…
تحریر: ایم سرور صدیقی عرصہ ہوا حب الوطنی کے موضوع پر بننے والی ایک فلم میںملک دشمن عناصر اداکار ندیم کو اتنا زچ کردیتے ہیں…
تحریر : محمد آصف اقبال دنیا میں اسلام کو جس بڑے پیمانہ پر بدنام کرنے کی سازشیں رچی جا رہی ہیں،اس کے نتیجہ میں یہ…
کاغذ کی کشتیوں میں پانی کا سفر ہے یہ مِٹی کے باسیوں کا ویران نگر ہے یہ جن لوگوں پہ تکیہ تھا ان سب کے…
تحریر: شاہ زیب شاکر آرام و سکون کی تلاش میں نکلا انسان وحشت و گمراہی کے جنگل میں ایسا بھٹکا کہ اُسے اپنے ہی بھلے…
بہاولپور(خصوصی رپورٹ) چکنمبر 142 /DRB تحصیل یزمان ضلع بہاولپور کی رہائشی مقتولہ مہنازبی بی عمر تقریبا 18 سال) دختر اللابخش ذات نائچ کو کچھ دن…
ہواحب الوطنی کے موضوع پر بننے والی ایک فلم میں ملک دشمن عناصر اداکار ندیم کو اتنا زچ کردیتے ہیں کہ وہ وحشت میں پاگل…
میں نے اخبار میں ایک داستان پڑی یہ داستان میں آپ کے نظر کرتا ہوں کئی سالوں سے ملک دہشت گردی کا شکار ہیں روز…
مظلوموں کا تیر ظلمت کے شیر کو نیست ونابود کردے گا شیر وحشت،دہشت،بربریت اور درندگی کی علامت ہے۔ہمارے ہاتھ میں حسینیت کا تیر ہے۔ہم ہر…
زندگی جب منتوں سے نکلتی ہے تو وحشت بن جاتی ہے مگر وہ لوگ جو اس بپھرے ہوئے گھوڑے کو لگام ڈالنا جانتے ہوں وہ…
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں تم انشاجی کا نام نہ لو، کیا انشا جی سودائی ہیں؟ ہیں لاکھوں روگ زمانے…
سنتےہیں پھر چھپ چھپ انکے گھر میں آتےجاتے ہو انشا صاحب ناحق جی کو وحشت میں الجھاتے ہو دل کی بات چھپانی مشکل، لیکن خوب…
اپنے شعروں کے تو ممدوح تھے موزوں بدناں یوں ملا اس کا صلہ، شان ویا کے شایاں عشق مہجو رو تپاں، وصل نصیب دگراں ہاں…
لب پر نام کسی کا بھی ہو، دل میں تیرا نقشہ ہے اے تصویر بنانے والی، جب سے تجھ کو دیکھا ہے بے تیرے کیا…
تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں، مرے دل سے بوجھ اتار دو میں بہت دنوں سے اداس ہوں مجھے کوئی شام ادھار دو مجھے اپنے روپ…
وحشت کا اثر خواب کی تعبیر میں ہوتا اک جاگنے والا میری تقدیر میں ہوتا اک عالمِ خوبی ہے میسر مگر اے کاش اس گلی…
دل پہ اک طرفہ قیامت کرنا مسکراتے ہوئے رخصت کرنا اچھی آنکھیں جو ملی ہیں اس کو کچھ تو لازم ہوا وحشت کرنا جرم کس…
اس قدر بھی تو نہ جذبات پہ قابو رکھو تھک گئے ہو تو مرے کاندھے پہ بازو رکھو بھولنے پائے نہ اُس دشت کو وحشت…
Start typing to search...
