
وہ چاندنی کا بدن خوشبوئوں کا سایہ ہے
بہت عزیز ہمیں ہے مگر پرایا ہے
اُتر بھی آئو کبھی آسماں کے زینے سے
تمہیں خدا نے ہمارے لیے بنایا ہے
کہاں سے آئی یہ خوشبو، یہ گھر کی خوشبو ہے
اس اجنبی کے اندھیرے میں کون آیا ہے
اُسے کسی کی محبت کا اعتبار نہیں
اُسے زمانے نے شائد بہت ستایا ہے
تمام عمر مِرا دم اسی دھوئیں میں گھٹا
وہ اک چراغ تھا میں نے اُسے بجھایا ہے
بشیر بدر
